ممبئی، 17؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ممبئی میں جمعہ کی صبح سے جاری بارش نے عوام کی زندگی درہم برہم کردی اور راستوں کو تالاب میں تبدیل کردیا۔ محکمہ موسمیات نے اسے جولائی مہینے میں ایک دن میں ہونے والی تیسری سب سے زیادہ بارش قرار دیا ہے۔ اسی موسلادھار بارش کے سبب ممبئی میں ایک بار پھر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی اورشہر و مضافات کے ۲۶؍مقامات پر پانی بھرجانے کی شکایتیں موصول ہوئیں۔ حالات کا جائزہ لینے کیلئے ممبئی کی میئر کشوری پیڈنیکر نے بھی متعدد علاقوں کا دورہ کیا او رمین ہول بھی چیک کئے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق ۱۶؍ جولائی ۲۰۲۱ء سے قبل ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۹ ء میں ممبئ میں ۲۴؍ گھنٹوں میں ۲۷۴ء۱؍ ملی میٹر جبکہ ۲؍ جولائی ۲۰۱۹ء میں ۳۷۶ء۲؍ ملی میٹر بارش درج کی گئی تھی۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جمعہ کی علی الصباح ۴؍بجے سے موسلا دھار بارش ہونے کے سبب ممبئی میں ۲۶؍ مقامات پر پانی بھرنے کی شکایت بی ایم سی کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو موصول ہوئیں ۔ ان علاقوں میں شہر کے ۸: دادر ٹی ٹی ، سکر پنچایت چوک، گاندھی مارکیٹ ، سائن روڈ نمبر ۲۴، ہند ماتا ، وڈالا بریج، سنگم نگر اور کنگس سرکل جبکہ مشرقی مضافات میں کرلا سب وے، کرلا سگنل ایل بی ایس روڈ ، پی ایل لوکھنڈے مارگ، مانخورد سب وے ، آ ر سی ایف کالونی ، سانڈو گارڈن، انجن بائی نگر اور انوشکتی نگر جبکہ مغربی مضافات میں: اوبے رائے مال، ملن سب وے ، سائی ناتھ سب وے ، اندھیری مارکیٹ ، کھار اسٹیشن ، سنگم نگر ، شاستری نگر اجیت گلاس، نیشنل کالج اور دہیسر سب وے شامل ہیں۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں ہونے والی تیز بارش کے سبب ایک دفعہ پھر سینٹرل ریلوے کی ٹرینوں کی رفتار تھم سی گئی۔اسی کے ساتھ بیسٹ بسوں کی خدمات اس طرح متاثر ہوئیں کہ ایک دو نہیں بلکہ ۱۱۰؍بسوں کے روٹ بدل کر انہیں دوسرے راستوں سے گزارنا پڑا۔ دوسری جانب شہر اور مضافات کے مختلف علاقوں میں پانی بھرنے کی شکایات موصول ہوئیں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے ریلوے اور بی ایم سی کی جانب سے گٹروں اور نالوں کی صاف صفائی پر اس دفعہ اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دی جانی چاہئے تھی۔پانی جمع ہونے کے مسائل اور ٹرینیں بند ہونے سے ہونے والی دقتوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سابق وزیر ریل پیوش گوئل بھی اس مسئلے کے حل کے لئے ریلوے افسران کو متوجہ کرچکے ہیں۔
کرلا اور سائن ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹریوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے خاص طور پر تیز رفتار ٹرینوں کی رفتار پر ماٹنگا اور ملنڈ کے درمیان زیادہ اثر پڑا اور سلو لائن اور ہاربر لائن کی ٹرینیں ریلوے انتظامیہ کے مطابق ۲۵؍ منٹ تاخیر سے چلائی گئیں اور دوپہر کے بعد حالات معمول پر آئے۔اس کے علاوہ ٹرانس ہاربر لائن اور بیلاپور نیرول سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ سینٹرل ریلوے کے چیف پی آر او شیواجی ستار کے مطابق فاسٹ لائن کی ٹرینیں زیادہ متاثر ہوئیں لیکن پوری طرح سے بند نہیں ہوئیں۔ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او سمیت ٹھاکور کے مطابق بارش سے ویسٹرن ریلوے کی ٹرینوں کی آمدورفت پر معمولی فرق پڑا اور دوپہر بعد ٹرینیں معمول کےمطابق شروع ہوگئیں۔
تیز بارش کے سبب شہر اور مضافات کے ۱۷؍نشیبی علاقوں شیتل سمیما، کرلا ایل بی ایس مارگ، سائن روڈ نمبر ۲۴؍، سائی ناتھ سب وے(ملاڈ)، چمبور پھاٹک، ملن سب وے، اندھیری مارکیٹ، گاندھی مارکیٹ، ہند ماتا سنیما، آر سی ایف کالونی، وڈالا بریج ، انجن بائی نگر، آر سینٹر، گوتم نگر، سندو گارڈن روڈ نمبر ۱۸؍، اجیت گلاس، شاستری نگر ، بی ایل لوکھنڈے مارگ، اوبیرائے مال، میور نگر ، کرلا سلدہیسر سب وے ، سائی بابا مندر لنک روڈ، ایس وی روڈ نیشنل کالج اور مانخورد اسٹیشن پر پانی بھرنے کے سبب ۱۱۰؍ بسوں کے روٹ کو بدل کر چلایا گیا اور کچھ روٹ کی بسوں کو رد بھی کیا گیا۔بیسٹ کے پی آر او منوج وراڈے نے ان تفصیلات کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ پانی زیادہ ہونے کے سبب یہ مسائل پیدا ہوئے اس کے باوجود کوشش یہ کی گئی کہ بدلے گئے روٹ سے مسافروں کو راحت پہنچائی جائے اور اس میں بڑی حد تک کامیابی بھی ملی۔
ممبئی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ۱۸؍ تا ۲۰؍ جولائی کو ممبئی ، تھانے ، پال گھر، رتنا گیری اور سندھودرگ میں موسلادھار بارش ہو گی ۔ ان علاقوں کیلئے اورینج الرٹ بھی جاری کیا گیاہے۔